نوجوت سنگھ سدھو نے بھارتی کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں کو کرکٹ کے لیے خطرہ قرار دے دیا
یہ محض جذباتی یا دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا کرکٹنگ الرٹ ہے
بھارت کے سابق کرکٹر اور معروف کمنٹیٹر نوجوت سنگھ سدھو نے ایک بار پھر کھل کر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ رویہ اور فیصلے بھارتی کرکٹ کو عالمی سطح پر تنہا کر سکتے ہیں۔
ممبئی میں نشر ہونے والے پروگرام ’’کون بنے گا چیمپئن‘‘ کے دوران سدھو نے سخت الفاظ میں کہا کہ بھارتی کرکٹ انتظامیہ نے کھیل کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ سوچ بدلی جائے۔
نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا تھا کہ دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے برداشت اور سفارتی سمجھ بوجھ ضروری ہوتی ہے۔ ’’یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کسی ملک کو گالیاں دیں، اس پر تنقید کریں اور پھر اسی کو اپنے گھر آ کر کھیلنے کی دعوت بھی دیں۔
انہوں نے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے بھارت آنے سے انکار کو ایک خطرناک اشارہ قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے کے پیچھے صرف ایک وجہ نہیں ہو سکتی، بلکہ کہیں نہ کہیں بھارتی رویے میں بھی خامی ضرور ہے۔
سدھو نے واضح کیا کہ اگرچہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات خراب ہیں اور دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے ہاں کھیلنا ایک الگ معاملہ ہے، لیکن بنگلہ دیش کا انکار بھارت کے لیے ہرگز اچھی خبر نہیں۔ ان کے مطابق یہ محض جذباتی یا دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا کرکٹنگ الرٹ ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اس وقت بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا ایک مؤقف پر کھڑے ہیں اور یہ تینوں آئی سی سی کے فل ممبر ممالک ہیں۔ سدھو کے مطابق یہ بات وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہیں کرکٹ کے قوانین اور عالمی سیاست کی سمجھ ہو۔
سابق بھارتی کرکٹر نے خبردار کیا کہ اگر اسی طرح ٹیمیں بھارت آنے سے انکار کرتی رہیں اور مستقبل میں چار آئی سی سی فل ممبر ممالک نے بھی بھارت میں ٹورنامنٹس کھیلنے سے انکار کر دیا تو آئی سی سی کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا کہ وہ بڑے ایونٹس بھارت سے ہٹا کر کسی نیوٹرل ملک منتقل کر دے۔
نوجوت سنگھ سدھو نے آخر میں بھارتی کرکٹ حکام کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں، ورنہ بھارتی کرکٹ اپنی ضد اور غلط پالیسیوں کے باعث عالمی تنہائی کا شکار ہو سکتی ہے، جس کا نقصان صرف کھیل کو ہوگا، سیاست کو نہیں۔
