پشاور: دہشت گرد تنظیم کے سربراہ نے مبینہ طور پر اپنے کمانڈروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں لڑنے کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں بالخصوص افغان شہریوں، کی بھرتی اور تعیناتی سے گریز کریں اور خبردار کیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
خراسان ڈائری کے مطابق یہ ہدایت حافظ گل بہادر کی جانب سے دی گئی جو نام نہاد اتحاد المجاہدین پاکستان کے سربراہ ہیں اور یہ پیغام چند روز قبل ایک آڈیو پیغام کے ذریعے ان کے ساتھیوں تک پہنچایا گیا۔
یہ ہدایت کابل کے اس مؤقف کے بھی برعکس دکھائی دیتی ہے جس میں کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا مسئلہ ایک اندرونی معاملہ ہے۔
افغان سرزمین اور جنگجوؤں کے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کا معاملہ طویل عرصے سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان شدید اختلاف کا باعث بنا ہوا ہے، جو سرحدی جھڑپوں تک جا پہنچا اور بالآخر گزشتہ برس اکتوبر میں پاک افغان سرحد کی بندش پر منتج ہوا۔
حالیہ مہینوں میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کی جڑیں افغانستان سے ملتی ہیں۔
گل بہادر کی یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے پیش نظر افغان طالبان اپنے پاکستانی ساتھیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اور یہ کابل میں گزشتہ ماہ کے اوائل میں جاری کیے گئے علما کے ایک فرمان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ افغان سرزمین کسی غیر ملکی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
یہ فرمان افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اس سے قبل دیے گئے بیان کے بعد جاری کیا گیا تھا، جسے بڑی حد تک نظرانداز کر دیا گیا تھا۔
