افغان طالبان رجیم کا امدادی رقوم پر قبضہ؛ بدترین کرپشن کا پردہ چاک

افغان طالبان رجیم کا امدادی رقوم پر قبضہ؛ بدترین کرپشن کا پردہ چاک

افغان میڈیا نے طالبان رجیم کی امدادی فنڈز میں لوٹ مار کی قلعی کھول دی

 افغان طالبان رجیم کی بین الاقوامی امدادی فنڈز پر عیاشیاں جاری ہیں جبکہ عوام بھوک وافلاس کے شکنجے میں آگئے ہیں، افغان میڈیا نے طالبان رجیم کی امدادی فنڈز میں لوٹ مار کی ایک بار پھر قلعی کھول دی۔

 افغان جریدہ ہشت صبح کے مطابق کُندُز میں افغان طالبان نے ضرورت مندوں کیلئے امداد کا نصف حصہ ہڑپ کرلیا، سعودی کنگ سلمان ہیومینی ٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کی جانب سے امدادی پیکجز فراہم کیے گئے تھے۔

ہشت صبح میں بتایا گیا کہ افغان طالبان رجیم نے امدادی پیکجز کا بڑا حصہ خود رکھ لیا جبکہ ضرورت مند عوام منہ تکتے رہ گئے، افغان طالبان رجیم کی جانب سے عوام کی ضرورت اور بھوک کو یکسر نظر انداز کیا گیا، افغان طالبان رجیم کی امدادی سامان کی لوٹ مار پر عالمی اور مقامی سطح پر بارہا شدید تحفظات کا اظہار کیا جاچکا ہے۔

  امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (سگار) کی رپورٹ میں طالبان کی امدادی سامان کی تقسیم میں کرپشن کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔

سِگار رپورٹ کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں مداخلت کے 150واقعات میں سے 95 فیصد طالبان رجیم کی جانب سے ہوئے، افغان طالبان رجیم طاقت سمیت ہر حربہ استعمال کرکے امداد من پسند افراد میں تقسیم کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امدادی رقوم ضرورت مند افغان عوام تک پہنچتی ہی نہیں، ایک بڑا حصہ افغان طالبان رجیم ہڑپ کرجاتے ہیں، افغان عوام کے لیے بین الاقوامی امداد 2025 تک 10.72 بلین ڈالر پہنچی، جس میں سب سے زیادہ 3.83 بلین ڈالر امریکا نے فراہم کیا جبکہ 293 ملین ڈالرز دہشت گرد نیٹ ورکس کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔

افغان طالبان رجیم کی لوٹ مار، کرپشن اور شدت پسندی کے باعث امریکا افغانستان کے لیے تمام امداد فوری اور مکمل طور پر معطل کر چکا ہے، افغان طالبان رجیم کرپشن اور دہشت گردوں کی پشت پناہی میں مصروف ہے جبکہ عوام بھوک وافلاس کی دلدل میں دھنستی جارہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے