ایرانی مظاہرین کے لیے جلد مدد پہنچنے والی ہے، صدر ٹرمپ

ایرانی مظاہرین کے لیے جلد مدد پہنچنے والی ہے، صدر ٹرمپ

ایرانی حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور فون سروسز مکمل طور پر بند کر دی ہیں

ایران میں حکومت مخالف پرتشدد مظاہروں نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے اور ریاستی اداروں کا کنٹرول سنبھالنے کی اپیل کر دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین کے قتل میں ملوث عناصر کے نام محفوظ کیے جا رہے ہیں اور انہیں اس ظلم کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ جب تک ایران میں مظاہرین کا قتل بند نہیں ہو جاتا، وہ ایرانی حکام سے تمام سفارتی ملاقاتیں منسوخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی مظاہرین کے لیے مدد جلد پہنچنے والی ہے، جس سے خطے میں ہلچل مچ گئی ہے۔

دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت نے سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر براہِ راست گولیاں چلانے کا حکم دے دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 28 دسمبر سے اب تک 3 ہزار سے زائد ایرانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد شدید زخمی حالت میں اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور فون سروسز مکمل طور پر بند کر دی ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اس بلیک آؤٹ کا مقصد حکومتی تشدد کی تصاویر اور ویڈیوز کو عالمی میڈیا اور دنیا تک پہنچنے سے روکنا ہے۔

ذرائع کے مطابق مختلف شہروں میں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں، جبکہ خوف اور بے یقینی کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے