بوکھلاہٹ کی انتہا، بھارت نے جاسوس کبوتر پکڑ کر دنیا کو جگ ہنسائی کا موقع دے دیا
کبوتر کو اب مزید ’’تفتیش‘‘ کے لیے بھارتی سیکیورٹی ایجنسیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے
بھارت نے لائن آف کنٹرول پر سیکیورٹی کے نام پر ایک بار پھر دنیا کو حیران کر دیا، جہاں اس بار مبینہ ’’سرحد پار جاسوسی‘‘ کے الزام میں کوئی انسان نہیں بلکہ ایک بے زبان کبوتر قانون کی گرفت میں آ گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے اکھنور سیکٹر کے قریب ایک مقامی لڑکے نے ایک کبوتر کو مشکوک حرکات کرتے دیکھا، جس کے بعد اسے فوراً سیکیورٹی خطرہ قرار دے کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ پرندے کی گرفتاری کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔
رپورٹ کے مطابق کبوتر کے پروں پر مختلف مہریں لگی ہوئی تھیں جبکہ اس کے دونوں پاؤں میں لال اور پیلی رنگ کی انگوٹھیاں موجود تھیں۔ ان انگوٹھیوں پر درج الفاظ ’رحمت سرکار‘، ’رضوان 2025‘ اور چند نمبرز نے بھارتی حکام کو مزید چوکس کر دیا، جس کے بعد کبوتر پر ’’خفیہ پیغامات لے جانے‘‘ کا شبہ ظاہر کیا گیا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کبوتر کو اب مزید ’’تفتیش‘‘ کے لیے بھارتی سیکیورٹی ایجنسیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے، جہاں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا پرندہ واقعی کسی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے یا محض غلط سمت اڑ آیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی بھارتی فورسز کبوتروں، غباروں اور حتیٰ کہ کھلونوں تک کو ’’مشکوک‘‘ قرار دے کر پوری دنیا میں شرمندہ ہو چکی ہے۔
