جوہری توانائی اور مصنوعی ذہانت کا ملاپ، ٹیکنالوجی کی نئی دنیا

جوہری توانائی اور مصنوعی ذہانت کا ملاپ، ٹیکنالوجی کی نئی دنیا

میٹا اور بل گیٹس کی حمایت یافتہ کمپنی کے درمیان جوہری توانائی کا بڑا معاہدہ طے پاگیا۔

میٹا اور بل گیٹس کی حمایت یافتہ کمپنی کے درمیان جوہری توانائی کا بڑا معاہدہ طے پاگیا۔

سماجی رابطوں کی عالمی کمپنی میٹا نے اپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے لیے طویل المدتی اور ماحول دوست توانائی کے حصول کی غرض سے ایک اہم جوہری معاہدہ کرلیا ہے۔

اس مقصد کے لیے میٹا نے بل گیٹس کی حمایت یافتہ جوہری توانائی کی کمپنی ٹیرا پاور کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت میٹا امریکا میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی آٹھ تک جوہری ری ایکٹرز کی تیاری میں معاونت کرے گی۔

یہ ری ایکٹرز ایک خاص نظام کے تحت تیار کیے جائیں گے جو محفوظ، مؤثر اور کاربن سے پاک توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

منصوبے کی تکمیل کے بعد ان ری ایکٹرز سے مجموعی طور پر 2400 میگاواٹ تک صاف توانائی حاصل کی جاسکے گی جو میٹا کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گی۔

ٹیرا پاور کی بنیاد 2008 میں رکھی گئی تھی اور اس کمپنی کا مقصد ایسے جوہری نظام تیار کرنا ہے جو روایتی نظاموں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور مؤثر ہوں۔

کمپنی کا تیار کردہ نظام ایک خاص قسم کے تیز رفتار ری ایکٹر اور توانائی محفوظ کرنے کے جدید طریقہ کار پر مشتمل ہے جس کی بدولت ضرورت کے وقت بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

ہر جوہری پلانٹ عام حالات میں 345 میگاواٹ بجلی فراہم کرتا ہے تاہم توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام فعال ہونے پر بجلی کی پیداوار پانچ گھنٹے سے زائد وقت کے لیے 500 میگاواٹ تک بڑھائی جاسکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ہوا یا سورج سے توانائی کم دستیاب ہو۔

خیال رہے کہ ٹیرا پاور امریکا میں اپنے پہلے تجارتی پیمانے کے جوہری منصوبے پر کام کا آغاز کرچکی ہے جس کی تکمیل 2030 تک متوقع ہے۔

نئے معاہدے کے تحت میٹا ابتدائی طور پر دو جوہری یونٹس کی تیاری کے اخراجات برداشت کرے گی جب کہ مزید 6 ری ایکٹرز سے توانائی حاصل کرنے کے حقوق بھی محفوظ رکھے گی جن سے بجلی کی فراہمی 2032 سے شروع ہونے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف میٹا کی توانائی حکمتِ عملی میں ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ صاف اور پائیدار توانائی کے فروغ کی جانب بھی ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے