زیادہ پروٹین یا متوازن غذا؟ مضبوط جسم کے لیے سچ سامنے آ گیا
صرف خوراک کے ذریعے مطلوبہ مقدار میں پروٹین حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے
خام انڈوں سے لے کر پروٹین شیکس تک، جسم مضبوط بنانے کے خواہشمند افراد کو اکثر یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پروٹین کی بہت زیادہ مقدار استعمال کریں۔
مگر سوال یہ ہے کہ حقیقت میں کتنی پروٹین ضروری ہوتی ہے اور اسے حاصل کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
ویسٹ سسیکس سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ فٹنس انفلوئنسر صوفیہ مولسن نے 19 برس کی عمر میں فٹنس کو سنجیدگی سے اپنایا، جب وہ زائد وزن کے مسئلے سے دوچار تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اکثر جذباتی سہارا حاصل کرنے کے لیے کھانے کی طرف رجوع کرتی تھیں، جس کے نتیجے میں وہ منفی خود اعتمادی اور کم اعتماد کے ایک دائرے میں پھنس گئیں۔
صوفیہ کے مطابق ایک دن انہیں احساس ہوا کہ اب انہیں صرف جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ ذہنی سکون کے لیے بھی اپنی زندگی کا کنٹرول سنبھالنا ہوگا۔
ابتدا میں انہوں نے صرف وزن کم کرنے کے مقصد سے جم جوائن کیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہیں صحت مند مقدار میں پٹھے بنانے کا عمل بھی بے حد پسند آنے لگا۔
وہ کہتی ہیں کہ جب انہوں نے اپنی طاقت میں اضافہ محسوس کیا تو یہ احساس انتہائی حوصلہ افزا تھا، اور طاقت میں ہر چھوٹی کامیابی نے انہیں مزید محنت کرنے پر آمادہ کیا۔
ان کے سفر میں غذائیت سے متعلق تحقیق ایک اہم عنصر ثابت ہوئی، جہاں انہیں معلوم ہوا کہ پٹھے بنانے کے لیے پروٹین کس قدر ضروری ہے۔
تاہم چونکہ صوفیہ سبزی خور ہیں، اس لیے ابتدا میں انہیں محسوس ہوا کہ صرف خوراک کے ذریعے مطلوبہ مقدار میں پروٹین حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
اسی وجہ سے انہوں نے پروٹین پاؤڈر کا سہارا لیا۔ ان کے مطابق اگرچہ متوازن غذا کے ذریعے پروٹین کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے، مگر اس کے لیے وقت اور محتاط منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔ مصروف طرزِ زندگی میں پروٹین پاؤڈر ایک آسان اور عملی حل ثابت ہوا۔
یوں صوفیہ مولسن کی کہانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پروٹین کے درست استعمال اور متوازن غذائی حکمتِ عملی کے ذریعے نہ صرف جسمانی طاقت بلکہ ذہنی اعتماد بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
