پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری نیٹ فلکس تک کیوں نہیں پہنچ سکی، فیصل رحمان نے بتادیا
فیصل رحمان نے کہا کہ بہترین اداکاروں کو اکثر ڈراموں میں تخلیقی آزادی یا اداکاری کا مناسب موقع نہیں ملتا۔
پاکستان کے معروف اداکار فیصل رحمان نے حال ہی میں وسیع پیمانے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی ڈرامے بین الاقوامی پلیٹ فارمز جیسے نیٹ فلکس تک کیوں نہیں پہنچ پائے۔
فیصل رحمان نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہترین اداکاروں کو اکثر ڈراموں میں تخلیقی آزادی یا اداکاری کا مناسب موقع نہیں ملتا۔
انہوں نے کہا ’’میں ٹی وی پر واپس نہیں آیا بلکہ سوشل میڈیا پر واپس آیا ہوں۔ حالیہ کام میں مجھے اپنی اداکاری میں بہتری محسوس نہیں ہوئی اور جو کردار مجھے پیش کیے جاتے ہیں، ان میں اداکاری کا کوئی موقع نہیں‘‘۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’ابو‘‘ کے کردار میں کیا کرسکتا ہوں؟ میں دو ڈرامے کرچکا ہوں لیکن کم از کم کردار کو کوئی کہانی ملنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اداکار ہوں، پروڈیوسر نہیں جو خود کے لیے پراجیکٹس بناؤں۔ مجھے اچھے ڈائریکٹر اور اچھی کہانی چاہیے، بس یہی جانتا ہوں۔
نیٹ فلکس کے حوالے سے فیصل رحمان نے کہا ’’ہم ایک چھوٹی انڈسٹری ہیں، مواد تیار ہورہا ہے لیکن پاکستانی مواد نیٹ فلکس تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ کیونکہ ہمارے پاس کوئی اصل اور منفرد مواد نہیں ہے۔
اداکار کہتے ہیں کہ جو نیٹ فلکس والے چاہتے ہیں، وہ پہلے ہی بھارت پیش کررہا ہے۔ یہاں پروفیشنلزم اور مضبوط کہانی سنانے کی کمی ہے۔ ہم بھارتی ثقافت سے متاثر ہوکر کہانیاں بناتے ہیں، اس طرح آگے کیسے بڑھ سکتے ہیں؟۔
فیصل رحمان نے مزید کہا کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو بین الاقوامی سطح پر پہنچانے کے لیے تخلیقی آزادی، مضبوط کہانیاں اور پیشہ ورانہ معیار کی اشد ضرورت ہے۔
