طویل عمر زندہ رہنے والی شارک کا حیرت انگیز راز سامنے آگیا

دنیا کے طویل ترین عرصے تک زندہ رہنے والے جانوروں میں شامل گرین لینڈ شارک کی آنکھوں پر ہونے والی نئی تحقیق نے حیران کن انکشافات کیے ہیں جو زندگی بھر بینائی محفوظ رکھنے کے راز کھول سکتی ہے۔

سائنس دان طویل عرصے تک یہ سمجھتے رہے کہ گرین لینڈ شارک کی بینائی نہایت کمزور ہوتی ہے یا شاید نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ مچھلی اپنی صدیوں پر محیط زندگی کا زیادہ تر حصہ سمندر کی تاریک اور گہری تہوں میں گزارتی ہے جہاں روشنی تقریباً ناپید ہوتی ہے۔

مزید یہ کہ اکثر ان شارک کی آنکھوں پر پیرا سائیٹ بھی چمٹے ہوتے ہیں جس سے یہ خیال مزید مضبوط ہوگیا تھا کہ انہیں دیکھنے کی خاص ضرورت نہیں۔

تاہم امریکا، سوئٹزرلینڈ اور ڈنمارک کے محققین کی مشترکہ تحقیق نے اس تصور کو غلط ثابت کردیا ہے۔ تحقیق کے مطابق گرین لینڈ شارک نہ صرف دیکھ سکتی ہے بلکہ سو سال سے زائد عمر میں بھی اس کا بصری نظام فعال رہتا ہے۔

یہ تحقیق ان شارک کی آنکھوں پر کی گئی جو سرکاری اجازت کے تحت 2020 سے 2024 کے درمیان تحقیق کے لیے حاصل کی گئیں۔ ان میں سے کئی شارک کی عمر ایک صدی سے زیادہ تھی جب کہ ایک کی عمر کا تخمینہ 130 برس سے بھی زائد لگایا گیا۔

گرین لینڈ شارک عموماً بارہ سو میٹر تک گہرے پانیوں میں رہتی ہے، جہاں روشنی کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے۔ سو میٹر کے بعد روشنی تیزی سے ختم ہونے لگتی ہے جب کہ ہزار میٹر سے نیچے سورج کی روشنی بالکل نہیں پہنچتی۔

محققین نے شارک کی آنکھ کے پردے کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس میں صرف ایسے خلیے موجود ہیں جو کم روشنی میں دیکھنے کے لیے مخصوص ہوتے ہیں جب کہ رنگوں کو پہچاننے والے خلیے مکمل طور پر غیر موجود ہیں۔ یہ ترتیب ان جانوروں میں پائی جاتی ہے جو ہمیشہ اندھیرے ماحول میں رہتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ شارک کی آنکھ میں موجود روشنی جذب کرنے والا مادہ خاص طور پر نیلی روشنی کے لیے زیادہ حساس ہے جو گہرے سمندر میں دستیاب واحد روشنی ہوتی ہے۔

حیرت انگیز طور پر سو سال سے زائد عمر کے باوجود ان شارک کی آنکھوں میں کسی قسم کی خرابی یا زوال کے آثار نہیں پائے گئے۔ حتیٰ کہ آنکھ پر پیراسائیٹ جاندار موجود ہونے کے باوجود روشنی اندر پہنچتی رہتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ گرین لینڈ شارک کا بصری نظام انتہائی مضبوط اور دیرپا ہے، جو ممکنہ طور پر اس کی غیر معمولی طویل عمر سے جڑے اندرونی حفاظتی نظام کا حصہ ہے۔

یہ دریافت مستقبل میں انسانوں کی بینائی کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کے حوالے سے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے