بھارت میں کھیل نہیں، شناخت کی بنیاد پر فیصلہ؛ امریکی کھلاڑیوں کے ویزے مسترد
ورلڈکپ 7 فروری سے بھارت میں شروع ہو رہا ہے اور امریکی ٹیم کا پہلا میچ بھی بھارت کے خلاف ہے۔
بھارت کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شناختی کھیل جاری ہے اور امریکی کھلاڑیوں کے ویزے پاکستانی پس منظر کی وجہ سے مسترد کردیے گئے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے موقع پر کھیل سے زیادہ شناختی مسائل سامنے آگئے ہیں۔ امریکی ٹیم کے چار کھلاڑی فاسٹ بولر علی خان، شایان جہانگیر، احسان عادل اور محمد محسن کو بھارت نے محض پاکستانی پس منظر کی بنیاد پر ویزا دینے سے انکار کردیا۔
یہ فیصلہ نہ صرف کھیل کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ عقلِ سلیم کے تقاضوں کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ ان کھلاڑیوں کی پیدائش یا خاندانی تعلقات پاکستان سے ہیں جس کی وجہ سے ان کا ویزا مسترد کردیا گیا ہے۔
علی خان نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس واقعے کی تصدیق کی جس کے بعد عالمی کرکٹ حلقوں میں یہ سوال پیدا ہوگیا کہ آیا کھلاڑیوں کی فارم اور صلاحیتوں کی بجائے ان کا پس منظر اہم ہوگا۔
یہ صورتحال اس عالمی میگا ایونٹ کے مقاصد کے منافی ہے جس کا اصل ہدف کھیل کے ذریعے قوموں کو قریب لانا ہوتا ہے۔
تاہم میزبان ملک بھارت نے عملی طور پر کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کے دعوؤں کو چیلنج کردیا ہے اور اس طرح کھیل کی غیر جانبداری کو نقصان پہنچایا گیا۔
یاد رہے کہ ورلڈ کپ 7 فروری سے بھارت میں شروع ہو رہا ہے اور امریکی ٹیم کا پہلا میچ بھی بھارت کے خلاف ہے۔
امریکی ٹیم پاکستان، بھارت، نمیبیا اور نیدرلینڈز کے ساتھ ایک ہی گروپ میں شامل ہے لیکن اب یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا میدان میں حقیقی مقابلہ ہوگا یا صرف کاغذی سطح پر؟
