حماس کا غزہ حکومت تحلیل کرنے، انتظام ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کا اعلان
تاہم حماس کی جانب سے اس تبدیلی کے وقت کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی ہے
غزہ: فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں اپنی حکومت تحلیل کرکے انتظام ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی ثالثی میں طے پانے والے امن منصوبے کے تحت جیسے ہی ایک نئی غیر سیاسی فلسطینی ٹیکنوکریٹ قیادت غزہ کا کنٹرول سنبھالے گی، حماس اپنی موجودہ غزہ حکومت تحلیل کر دے گی۔
تاہم حماس کی جانب سے اس تبدیلی کے وقت کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی ہے۔
مغربی میڈیا کے مطابق حماس اور فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے تاحال ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے ارکان کے ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا اسرائیل اور امریکا اس قیادت کو کلیئر کریں گے یا نہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ میں کارروائی ، حماس کے 5 اہم کمانڈر کی شہادت کا اسرائیلی دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں قائم کی جانے والے مجوزہ “بورڈ آف پیس” کو جنگ بندی، حماس کے اسلحے کے خاتمے، بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تعیناتی اور غزہ کی تعمیر نو کی نگرانی سونپی جانی ہے، مگر اس کے ارکان کے نام بھی تاحال سامنے نہیں آئے ہیں۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ٹیلیگرام پر بیان میں ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا۔
ایک مصری عہدیدار کے مطابق حماس اس ہفتے دیگر فلسطینی دھڑوں سے مشاورت کرے گی تاکہ کمیٹی کی تشکیل کو حتمی شکل دی جا سکے، جبکہ حماس وفد کی قیادت خالد الحیہ کریں گے۔
ادھر جنگ بندی کے باوجود غزہ میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ فلسطینی طبی حکام کے مطابق اسرائیلی فائرنگ سے مختلف واقعات میں تین فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئیں۔
اسی دوران اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈیون ساعر نے یروشلم میں جاپانی ہم منصب سے ملاقات میں ٹرمپ منصوبے پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ جاپان نے بھی جنگ بندی کے عمل میں فعال کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
