کیا ہم ریاضی کے ذریعے خلائی مخلوق سے بات کرسکتے ہیں؟ شہد کی مکھیوں نے راز کھول دیا

کیا ہم ریاضی کے ذریعے خلائی مخلوق سے بات کرسکتے ہیں؟ شہد کی مکھیوں نے راز کھول دیا

ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس وسیع کائنات میں اکیلے ہیں یا کہیں اور بھی ذہین مخلوق موجود ہے؟

انسان ہمیشہ سے خلا اور کائنات کے بارے میں متجسس رہا ہے۔ ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس وسیع کائنات میں اکیلے ہیں یا کہیں اور بھی ذہین مخلوق موجود ہے؟ اگر واقعی کوئی اور مخلوق ہے تو وہ کیسی ہوگی اور ہم اس سے بات چیت کیسے کریں گے؟

سائنسی شواہد یہ امکان ظاہر کرتے ہیں کہ زمین کے علاوہ بھی کہیں زندگی موجود ہوسکتی ہے مگر ستاروں کے درمیان فاصلے بے حد زیادہ ہیں۔

ہمارے قریب ترین ستارے تک بھی روشنی کو کئی سال لگتے ہیں، اس لیے اگر کبھی رابطہ ہوا تو وہ براہِ راست ملاقات کے بجائے دور فاصلے سے پیغامات کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بغیر کسی مشترکہ زبان کے بات کیسے کی جائے؟

اس سوال کا ایک دلچسپ جواب ہمیں زمین ہی پر موجود ایک مخلوق سے ملتا ہے، یعنی شہد کی مکھی۔ انسان اور مکھی کے دماغ، جسم اور ارتقائی تاریخ میں زمین آسمان کا فرق ہے، اس کے باوجود دونوں میں ایک حیرت انگیز قدر مشترک پائی جاتی ہے اور وہ ہے گنتی اور حساب کی صلاحیت۔

ماہرین کے مطابق ریاضی سائنس کی بنیادی زبان ہے۔ صدیوں پہلے یہ خیال پیش کیا گیا تھا کہ کائنات کو سمجھنے کی کنجی ریاضی ہے۔ اسی تصور کو بنیاد بناکر کئی سائنسی اور تحقیقی کوششیں کی گئیں جن میں خلا میں بھیجے گئے پیغامات میں اعداد اور اشکال کے ذریعے زمین کا تعارف کرایا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شہد کی مکھیاں بھی پیچیدہ دماغ کے بغیر سادہ حساب سیکھ سکتی ہیں۔ حالیہ تجربات میں دیکھا گیا کہ مکھیاں جمع اور تفریق جیسے بنیادی اعمال انجام دے سکتی ہیں، مقداروں میں فرق پہچان سکتی ہیں، حتیٰ کہ صفر کے تصور کو بھی سمجھتی ہیں۔

وہ نشانات کو اعداد سے جوڑنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں جو انسانوں میں عددی تعلیم کی ابتدائی شکل سمجھی جاتی ہے۔

چونکہ انسان اور مکھی کے درمیان ارتقائی فاصلہ کروڑوں برس پر محیط ہے، اس کے باوجود دونوں میں ریاضی کی سمجھ پائی جاتی ہے۔ اس سے یہ خیال مضبوط ہوتا ہے کہ ریاضی محض انسانی ایجاد نہیں بلکہ ذہانت کی ایک فطری خصوصیت ہوسکتی ہے۔

اگر زمین پر دو بالکل مختلف مخلوقات ایک ہی عددی اصول سمجھ سکتی ہیں تو ممکن ہے کہ کائنات میں موجود کوئی اور ذہین مخلوق بھی ریاضی کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ایسے میں ریاضی مستقبل میں ایک ایسی مشترکہ زبان بن سکتی ہے جو ستاروں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے