سائنس دان حیران: ایسا سیارچہ جو اتنی تیزی سے گھوم رہا ہے کہ ٹوٹ جانا چاہیے تھا!
مریخ اور مشتری کے درمیان 710 میٹر کا یہ بڑا سیارچہ محض 1 منٹ 58 سیکنڈ میں اپنا ایک چکر مکمل کرلیتا ہے۔
سائنس دانوں نے ایک ایسے سیارچے (ایسٹرائڈز) کی نشاندہی کی ہے جو اپنی غیر معمولی گردش کی رفتار کے باعث فلکیاتی تحقیق میں ہلچل مچارہا ہے۔
یہ دریافت امریکا کی جدید فلکیاتی رصدگاہ سے حاصل ہونے والے ابتدائی مشاہدات کے دوران سامنے آئی ہے حالانکہ اس رصدگاہ کا باقاعدہ سروے ابھی شروع بھی نہیں ہوا۔
مریخ اور مشتری کے درمیان واقع سیارچوں کی پٹی میں موجود 710 میٹر کا یہ بڑا سیارچہ محض 1 منٹ 58 سیکنڈ میں اپنا ایک چکر مکمل کرلیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اتنی تیز رفتار گردش پر ایسا سیارچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجانا چاہیے تھا کیونکہ ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ ڈیڑھ سو میٹر سے بڑے سیارچے ایک خاص حد سے زیادہ تیز نہیں گھوم سکتے۔
حیرت انگیز طور پر اس رصدگاہ نے مزید 18 ایسے سیارچے بھی دریافت کیے جو غیر معمولی تیزی سے گھوم رہے ہیں۔ یہ انکشاف اس نظریے کو چیلنج کرتا ہے کہ زیادہ تر سیارچے ملبے کے ڈھیروں پر مشتمل ہوتے ہیں جو تیز گردش برداشت نہیں کرسکتے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ نئے دریافت شدہ سیارچے شاید ٹھوس پتھر جیسے مضبوط مادے سے بنے ہوں جو انہیں ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق ان کی مضبوطی عام چٹانوں کے برابر ہوسکتی ہے۔
یہ دریافت اس خیال کو تقویت دیتی ہے کہ نظامِ شمسی کے ابتدائی دور میں ہونے والے شدید تصادمات کے نتیجے میں کچھ سیارچے غیر معمولی اندرونی ساخت کے حامل بن گئے ہیں جو آج تک برقرار ہیں۔
واضح رہے کہ ان تیز رفتار گھومنے والے سیارچوں کا تفصیلی مطالعہ نہ صرف سیارچوں کی ساخت کو سمجھنے میں مدد دے گا بلکہ نظامِ شمسی کی تشکیل اور ارتقا سے متعلق کئی سوالات کے جوابات بھی فراہم کرسکتا ہے۔
