کیف: روس نے یوکرین پر رات گئے بڑے پیمانے پر حملہ کرتے ہوئے سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائل داغ دیے، جس کو یورپ کے لیے پیغام قرار دیا جارہا ہے۔
مغربی میڈیا کے مطابق روس کی جانب سے داغے گئے ان میزائل حملوں میں دارالحکومت کیف میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے ہیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق اس حملے میں روس نے دوسری بار اپنی نئے اور طاقتور ہائپرسونک، جوہری صلاحیت رکھنے والے “اوریشنک” بیلسٹک میزائل استعمال کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام کیف کے نیٹو اتحادیوں کیلئے ایک واضح انتباہ ہے، حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین اور اس کے اتحادی روسی جارحیت کے خلاف دفاعی انتظامات پر پیش رفت کا اعلان کر چکے تھے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ اور فرانس نے یوکرین میں فوج تعینات کرنے کا اعلان کردیا
یورپی رہنماؤں نے روسی حملے کو “اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے۔
کیف سٹی ملٹری ایڈمنسٹریشن کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک ایمرجنسی میڈیکل ورکر بھی شامل ہے، جبکہ حملے کے دوران امدادی کارروائیوں میں چار ڈاکٹر اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
حملوں کے نتیجے میں تقریباً 6 ہزار رہائشی عمارتیں حرارت سے محروم ہو گئیں، جبکہ درجہ حرارت منفی 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔
میئر کیف وٹالی کلیچکو نے بتایا کہ پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی، تاہم موبائل بوائلر یونٹس کے ذریعے اسپتالوں اور زچگی مراکز سمیت اہم عوامی اداروں میں بجلی اور حرارت بحال کر دی گئی ہے۔
صدر ولودومیر زیلنسکی کے مطابق حملے میں کیف میں واقع قطری سفارت خانے کو بھی نقصان پہنچا۔
یوکرینی سیکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ اوریشنک میزائل کے ملبے کی شناخت مغربی علاقے لویو میں کی گئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ میزائل روس کے کپوسٹن یار ٹیسٹ رینج سے فائر کیا گیا اور شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ گزشتہ ماہ یوکرینی ڈرون حملے کے جواب میں کیا گیا، جس کا ہدف مبینہ طور پر صدر پیوٹن کی رہائش گاہ تھی۔
تاہم یوکرین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
روسی صدر پیوٹن اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ اوریشنک میزائل میک 10 کی رفتار سے ہدف تک پہنچتا ہے اور کسی بھی میزائل دفاعی نظام سے محفوظ ہے۔
یوکرینی انٹیلی جنس کے مطابق اس میزائل میں چھ وار ہیڈز ہوتے ہیں، جن میں ہر ایک چھ ذیلی بارودی حصوں پر مشتمل ہے۔
یوکرینی وزیرِ خارجہ اندری سبیہا نے اعلان کیا ہے کہ روس کے اس اقدام پر یوکرین اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور یوکرین۔نیٹو کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کرے گا۔
سلامتی کونسل کا اجلاس پیر کو متوقع ہے۔
ادھر ویٹی کن میں پوپ لیو نے عالمی برادری سے فوری جنگ بندی اور امن کیلئے سنجیدہ مذاکرات کی اپیل کی ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ اوریشنک میزائل کا استعمال “یورپ اور امریکا دونوں کیلئے وارننگ” ہے۔
سیاسی اور عسکری ماہرین کے مطابق روس کا یہ حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ماسکو فی الحال امن کا خواہاں نہیں اور جنگ کو مزید خطرناک مرحلے میں لے جا رہا ہے۔
