ایلون مسک کی ایپ گروک بچوں کی فحش تصاویر بنانے میں استعمال ہونے کا انکشاف
یہ تصاویر برطانوی قانون کے تحت چائلڈ سیکسول ایبیوز میٹریل کے زمرے میں آتی ہیں
ایلون مسک کی ملکیت مصنوعی ذہانت کے ٹول گروک کے ذریعے بچوں کی غیر قانونی جنسی تصاویر بنانے کے سنگین الزامات سامنے آ گئے ہیں، جس کے بعد برطانیہ سمیت کئی ممالک میں شدید تشویش اور سیاسی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
برطانیہ کی معروف چائلڈ پروٹیکشن تنظیم انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ماہرین نے ڈارک ویب فورمز پر ایسی جنسی نوعیت کی تصاویر دیکھی ہیں جو مبینہ طور پر گروک کے ذریعے تیار کی گئیں اور جن میں 11 سے 13 سال کی کم عمر لڑکیاں شامل ہیں۔ تنظیم کے مطابق یہ تصاویر برطانوی قانون کے تحت چائلڈ سیکسول ایبیوز میٹریل کے زمرے میں آتی ہیں۔
انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کی ہاٹ لائن کی سربراہ نگائر الیگزینڈر نے خبردار کیا کہ گروک جیسے ٹولز بچوں کی جنسی نوعیت کی AI تصاویر کو مین اسٹریم میں لانے کا خطرہ رکھتے ہیں، جو ہرگز قابل قبول نہیں۔‘‘
اس انکشاف کے بعد برطانوی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ہاؤس آف کامنز ویمن اینڈ ایکوالٹیز کمیٹی نے گروک کے غلط استعمال کے خدشات پر ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ نے کہا ہے کہ ’’تمام آپشنز زیر غور ہیں‘‘ جبکہ برطانوی سائنس سیکریٹری لز کینڈل نے مطالبہ کیا کہ ایکس اس معاملے کو فوری طور پر حل کرے۔ انہوں نے ریگولیٹر آفکام کی مکمل حمایت کا بھی اعلان کیا تاکہ قانون شکنی کی صورت میں کارروائی کی جا سکے۔
ادھر برطانیہ کے انفارمیشن کمشنر آفس نے بھی ایکس اور اس کی کمپنی سے رابطہ کر کے وضاحت طلب کر لی ہے کہ وہ ڈیٹا پروٹیکشن قوانین اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے کون سے اقدامات کر رہے ہیں۔
ایکس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ بچوں سے متعلق غیر قانونی مواد فوری طور پر ہٹاتی ہے، ملوث اکاؤنٹس معطل کرتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کرتی ہے۔
معاملہ اب عالمی سطح پر بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ انڈونیشیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر نابالغوں سے متعلق فحش مواد کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ایکس کو ملک میں بند کیا جا سکتا ہے۔
جکارتہ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروک میں ایسے مواد کو روکنے کے لیے مناسب حفاظتی نظام موجود نہیں۔
اسی طرح فرانس میں بھی گروک کے ذریعے بنائی گئی مبینہ جنسی ڈیپ فیک تصاویر کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ یورپی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ چیٹ بوٹ کے آؤٹ پٹس کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے۔
