ایران دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، دشمن کو پیچھے ہٹنا پڑے گا؛ آیت اللہ خامنہ ای

ایران دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، دشمن کو پیچھے ہٹنا پڑے گا؛ آیت اللہ خامنہ ای

ایرانی قوم اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹی رہے گی اور مخالف قوتوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دے گی، سپریم لیڈر

تہران: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کی دھمکی یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹی رہے گی اور مخالف قوتوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دے گی۔

آیت اللہ خامنہ ای نے ملک میں موجود معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زرِمبادلہ کی منڈی میں عدم استحکام، کرنسی کی قدر میں کمی اور مالیاتی اتار چڑھاؤ کے باعث کاروباری حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے جو قابلِ فہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہے تاہم پُرامن احتجاج اور تخریب کاری کے درمیان فرق کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ عوام سے بات چیت کی جانی چاہیے لیکن بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر کے بیانات کو غیر سنجیدہ اور اشتعال دلانے کی کوشش قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ عوامی املاک کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور ایران اپنے داخلی معاملات میں کسی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج مکمل طور پر چوکس ہیں اور ملکی خودمختاری پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک 9 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ بدامنی اور توڑ پھوڑ میں ملوث 44 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بیانات کی جنگ اس وقت مزید تیز ہوگئی جب امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی صورت میں امریکا مداخلت کرسکتا ہے۔

اس بیان پر ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی لاریجانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے داخلی امور میں امریکی مداخلت خطے میں عدم استحکام کو جنم دے گی اور ایران اپنی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی ہر کوشش کا فیصلہ کن جواب دے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے