دہشت گردوں سے بات نہیں، کارروائی ہونی چاہیے، ایمل ولی خان
خیبرپختونخوا میں گزشتہ 12 برسوں سے پی ٹی آئی سیاسی گند کی صورت میں مسلط ہے، ایمل ولی خان
عوامی نیشنل پارٹی کے صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں سے بات نہیں، کارروائی ہونی چاہیے، پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کا بیڑہ غرق کردیا۔
بول نیوز کے پروگرام ’’بول رپورٹس ود بتول راجپوت‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ بات چیت صرف جمہوری قوتوں سے ہوسکتی ہے، دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں بلکہ ان کے خلاف مؤثر کارروائی کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 12 برسوں سے پی ٹی آئی سیاسی گند کی صورت میں مسلط ہے اور اس دوران صوبے کا جو حال کیا گیا، اسے بھلایا نہیں جاسکتا۔
سینیٹر نے کہا کہ ہم آج شدید ناامیدی کا شکار ہیں کیونکہ مسائل کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ راستے نکالنے والے نظر نہیں آرہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 40 ہزار سے زائد افراد کو سیٹل کیا مگر اس عمل پر آج تک کوئی احتساب کیوں نہیں ہوا؟، جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی نے پہنچایا ہے۔
اے این پی کے صدر نے کہا کہ جو جماعت دہشت گرد عناصر کی حمایت کرتی رہی ہو، وہ ہمارے ساتھ چلنے کے لیے کیسے تیار ہوسکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی گورنر راج کی حمایت نہیں کرتی۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سوات آپریشن کامیابی سے مکمل کیا گیا اور صرف تین ماہ کے اندر اندر آئی ڈی پیز کو ان کے علاقوں میں واپس آباد کیا گیا جو ایک مثال ہے کہ ریاستی رٹ کیسے بحال کی جاتی ہے۔
پی ٹی آئی کی اندرونی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج پی ٹی آئی میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کون بانی والا ہے اور کون نہیں۔
ان کے مطابق موجودہ قیادت میں سے کوئی بھی اصل بانی پی ٹی آئی سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس سے بڑی بغاوت اور کیا ہوسکتی ہے کہ بانی جیل میں ہو اور قیادت حکومت کے مزے لے رہی ہو۔
آئینی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ایمل ولی خان نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ 18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ 28 ویں ترمیم کب آئے گی تاہم صوبے ضرور بننے چاہئیں کیونکہ یہی وقت کی ضرورت ہے۔
