جدید دوربینوں کی مدد سے کائنات کے پوشیدہ راز سامنے آگئے

ماہرین فلکیات پہلی بار کسی ایسے سیارے کا وزن ناپنے میں کامیاب ہوئے ہیں جو کسی ستارے کے گرد نہیں گھوم رہا۔

کائنات میں ہر سیارہ خوش نصیب نہیں ہوتا کہ وہ سورج جیسی روشنی والے نظام میں زندگی گزار سکے۔ کچھ سیارے تنہا کائنات میں بھی گھوم رہے ہیں۔ حال ہی میں ماہرین فلکیات نے پہلی بار ایک ایسے تنہا سیارے کا وزن اور زمین سے فاصلے کا اندازہ لگایا ہے۔

یہ سیارہ مشتری کے ماس کا تقریباً پانچواں حصہ رکھتا ہے اور ہماری کہکشاں کے مرکز کی جانب تقریباً 9,785 نوری سال دور واقع ہے۔ اس کا حجم اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ یہ شاید کسی سیاروں کے نظام کا حصہ تھا مگر کشش ثقل کی حرکت کے باعث الگ ہوگیا۔

چونکہ یہ سیارہ چھوٹا اور مدھم روشنی والا ہے، اس لیے اسے براہِ راست دیکھنا ممکن نہیں۔ ماہرین فلکیات اسے عام طور پر اس کے اثرات کے ذریعے پہچانتے ہیں۔

جب یہ سیارہ زمین اور کسی روشن ستارے کے درمیان سے گزرتا ہے تو اس کی کشش ثقل روشنی کو مڑنے یا بڑھانے کا کام کرتی ہے جسے مائیکرولینسنگ کہا جاتا ہے۔

وزن معلوم کرنے کے لیے فاصلے کا پتا ہونا ضروری ہوتا ہے مگر تنہا سیارے کے لیے یہ مشکل کام ہوتا ہے۔

اس مرتبہ ماہرین خوش قسمت رہے کیونکہ یہ مائیکرولینسنگ واقعہ متعدد دورِ زمین دوربینوں نے 3 مئی 2024 کو مشاہدہ کیا جب کہ گایا خلائی دوربین نے 16 گھنٹوں میں چھ مرتبہ اس کو ریکارڈ کیا۔

گایا زمین سے 1.5 ملین کلومیٹر دور تھا جس سے اسے زمین پر موجود دوربینوں سے ہلکا مختلف منظر ملا۔ روشنی ہر جگہ تھوڑا وقت لے کر پہنچی جس سے سیارے کے فاصلے اور وزن کا اندازہ لگانا ممکن ہوا۔

ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سیارہ زمین سے 9,785 نوری سال دور ہے اور مشتری کے ماس کا تقریباً 22 فیصد رکھتا ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے ماہر گیوِن کولمین کے مطابق یہ تکنیک مستقبل میں ایسے تنہا سیاروں کا مطالعہ کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، خاص طور پر جب نینسی گریس رومن خلائی دوربین 2027 میں لانچ ہوگی۔

یہ دوربین ہبل دوربین سے ہزار گنا تیز رفتاری سے آسمان کا جائزہ لے گی اور مزید مائیکرولینسنگ واقعات کو ریکارڈ کرنے کے مواقع فراہم کرے گی۔

یہ دریافت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مربوط مشاہدات کے ذریعے ایسے سیاروں کی پوزیشن اور وزن کا تعین ممکن ہے اور یہ کائنات میں سیاروں کی تشکیل کے مطالعے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے